Friday, 23 July 2021

درختوں نے پکارا وقت تھوڑا رہ گیا ہے

 درختوں نے پکارا وقت تھوڑا رہ گیا ہے

ہمیں دیکھو ہمارا وقت تھوڑا رہ گیا ہے

ہرے موسم بکھرتے جا رہے ہیں بے رفاقت

کرے گا کیا نظارہ؟ تھوڑا رہ گیا ہے

اسے کہنا کہ سارے زخم بھرتے جا رہے ہیں

اسے کہنا کہ یارا! تھوڑا رہ گیا ہے

سفر کی شام آنکھوں سے لہو تک آ گئی ہے

دِیے تیرا دوبارہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے

مگر دلاسوں سے بھرا لہجہ کسی کا

مسیحائی اشارہ تھوڑا رہ گیا ہے


رفاقت راضی

No comments:

Post a Comment