درختوں نے پکارا وقت تھوڑا رہ گیا ہے
ہمیں دیکھو ہمارا وقت تھوڑا رہ گیا ہے
ہرے موسم بکھرتے جا رہے ہیں بے رفاقت
کرے گا کیا نظارہ؟ تھوڑا رہ گیا ہے
اسے کہنا کہ سارے زخم بھرتے جا رہے ہیں
اسے کہنا کہ یارا! تھوڑا رہ گیا ہے
سفر کی شام آنکھوں سے لہو تک آ گئی ہے
دِیے تیرا دوبارہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے
مگر دلاسوں سے بھرا لہجہ کسی کا
مسیحائی اشارہ تھوڑا رہ گیا ہے
رفاقت راضی
No comments:
Post a Comment