ہنر
لُو چلی
دھوپ ہوئی
زیست میں ایسی میری
خواب ہیں زرد
تو
ارمان ہوئے راکھ سبھی
تشنگی ذات میں اُتری
کسی صحرا کی طرح
اور سرابوں میں یہی تشنہ لبی ڈستی رہی
آتشِ وقت نے جُھلسا ہے
یوں
پل پل مجھ کو
کہنے کو دُکھ بھی مِرے لب میں رہی تاب نہیں
اک سلیقہ، مگر اس دھوپ نے سِکھلا ہی دیا
سہہ کے آزار سو ہنسنے کا ہنر آ ہی گیا
سبیلہ انعام صدیقی
No comments:
Post a Comment