Friday, 23 July 2021

یہ قصہ مختصر نہیں ہے

یہ قصہ مختصر نہیں ہے

تفصیل طلب مگر نہیں ہے

تم اپنے دِیے جلائے رکھو

امکانِ سحر اگر نہیں ہے

تُو میرے دل میں جھانکتا ہے

تیری اتنی نظر نہیں ہے

جو لوگ دکھائی دے رہے ہیں

کاندھوں پہ کسی کے سر نہیں ہے

اب یوں ہی دیکھتا ہوں رستہ

منزل پیش نظر نہیں ہے

یہ سوچ کے کی دعا مؤخر

دیوار میں کوئی در نہیں ہے

بے گھر ہوں میں امتیاز جب سے

اندیشۂ بام و در نہیں ہے


امتیازالحق

No comments:

Post a Comment