Saturday, 13 March 2021

آس کی دوڑ میں لا کر ہیں بکھرنے دیتیں

 آس کی دوڑ میں لا کر ہیں بکھرنے دیتیں

خواہشیں یار بھلا کب ہیں سنبھلنے دیتیں

ٹوٹ پڑتا ہے مِری آنکھ میں خوابوں کا وجود

اور تعبیریں نہیں آنکھ جھپکنے دیتیں

بددُعا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہ مر جاؤں میں

پر مجهے ماں کی دعائیں نہیں مرنے دیتیں

بیٹیاں شاخ پہ رہتی ہیں پرندوں کی طرح

یہ درختوں پہ اداسی نہیں چڑھنے دیتیں


سیف ریاض

No comments:

Post a Comment