آس کی دوڑ میں لا کر ہیں بکھرنے دیتیں
خواہشیں یار بھلا کب ہیں سنبھلنے دیتیں
ٹوٹ پڑتا ہے مِری آنکھ میں خوابوں کا وجود
اور تعبیریں نہیں آنکھ جھپکنے دیتیں
بددُعا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہ مر جاؤں میں
پر مجهے ماں کی دعائیں نہیں مرنے دیتیں
بیٹیاں شاخ پہ رہتی ہیں پرندوں کی طرح
یہ درختوں پہ اداسی نہیں چڑھنے دیتیں
سیف ریاض
No comments:
Post a Comment