Friday, 12 February 2021

رقم لہو سے ہیں کتنے سوال صحرا میں

 رقم لہو سے ہیں کتنے سوال صحرا میں

بُنے ہیں کتنے قبیلوں نے جال صحرا میں

کوئی تو ہے جو بُلاتا ہے گھر کی چوکھٹ پر

سُلگ اٹھا، دمِ آخر خیال صحرا میں

فضا میں اڑتے پرندے یہ کیا خبر لائے

بہانے لگ گئے آنسو غزال صحرا میں

نہ جانے دیکھا ہے کتنی نڈھال آنکھوں نے

طلوعِ بدر، یہ رنگِ ہلال، صحرا میں

اندھیرے اپنے گھروں کو پلٹتے جاتے ہیں

گری نہیں ابھی سورج کی ڈھال صحرا میں

یہ ہنستے بستے گھرانے خبر نہیں رکھتے

لُٹا ہے کیسا مسافر کمال صحرا میں

وہ راہِ حق کے مُسافر گزر گئے حیدر

لٹ گئی ہے ستاروں کی چال صحرا میں


حیدر سلیم

No comments:

Post a Comment