پوچھا گیا وہ ڈھل گئے ہیں کیا شباب میں؟
کانٹا بھی تو لگ سکتا ہے ویسے گلاب میں
اک خط بے نام سا آیا ہمارے نام
ہم اب بھی دل نشیں ہیں لکھا تھا جواب میں
مدت ہوئی اس شخص کو دیکھا نہیں کبھی
مدت کے بعد آج وہ آیا تھا خواب میں
اس کو ہمارے شہر تو آنے دو دوستو
جانے بھی دو کیا رکھا ہے ماہتاب میں؟
اس شہر دلبراں کو مقدس نہ جانیو
کچھ پارسا بھی ہیں یہاں کالے نقاب میں
بچپن میں مجھ کو یاد ہے ہم کھیلتے تھے ساتھ
یعنی وہ پھول سوکھ گیا میری کتاب میں
اس کی گلی سے گزرا تو آنسو چھلک پڑے
ننھی سی بچی ساتھ تھی اس کے حجاب میں
کب سے کھڑے ہیں وقت تو آیا نہیں کبھی
آکر چلا گیا ہوگا میرے حساب میں
بوتل کو منہ لگا کے واعظ نے یہ کہا
پانی ملا کے کون پیتا ہے شراب میں
نفرت گھلی پڑی ہے کیوں اس نگر میں حمزہ
پڑھایا جائے عشق بچوں کو نصاب میں
حمزہ علی
No comments:
Post a Comment