درد آنکھوں سے بہا اور روانی سے گیا
یعنی یہ ہجر مِری آنکھ کے پانی سے گیا
تُو گیا ہے تو یہی مجھ کو لگا ہے جاناں
جیسے کردار کوئی ایک کہانی سے گیا
پھر کبھی لوٹ کے آتے نہیں دیکھا اس کو
جو بھی اک بار کبھی دھرتئ فانی سے گیا
میں نے واپس لیا دل اپنا تِری یاد سمیت
یعنی تُو یار مِرے میری نشانی سے گیا
تیرے ہوتے ہوئے مہتاب رہا با معنی
تیرے انکار سے ہر حرف معانی سے گیا
ماہتاب دستی
No comments:
Post a Comment