Friday, 12 February 2021

درد آنکھوں سے بہا اور روانی سے گیا

 درد آنکھوں سے بہا اور روانی سے گیا

یعنی یہ ہجر مِری آنکھ کے پانی سے گیا

تُو گیا ہے تو یہی مجھ کو لگا ہے جاناں

جیسے کردار کوئی ایک کہانی سے گیا

پھر کبھی لوٹ کے آتے نہیں دیکھا اس کو

جو بھی اک بار کبھی دھرتئ فانی سے گیا

میں نے واپس لیا دل اپنا تِری یاد سمیت

یعنی تُو یار مِرے میری نشانی سے گیا

تیرے ہوتے ہوئے مہتاب رہا با معنی

تیرے انکار سے ہر حرف معانی سے گیا


ماہتاب دستی

No comments:

Post a Comment