Wednesday, 22 December 2021

کہاں تک مسکرا کے غم اٹھائیں

 کہاں تک مسکرا کے غم اٹھائیں

جہاں والو! تمہیں ہم کیا بتائیں

اکیلے ہم ہی کیوں کر چوٹ کھائیں

جہاں والے بھی کوئی غم اٹھائیں

یہ سورج، شام ،خاموشی، یہ لالی

بہت کچھ کہہ کے جائیں، یہ ہوائیں

تمہارا ساتھ تھا تو لوگ سارے

نظر آتے تھے میرے دائیں بائیں

مجھے جینے نہ دیں گی ان کی یادیں

وہ یادیں کاش لے کر ساتھ جائیں

اسے دل بھی دیا اور جاں بھی دے دی

ہوئیں ہم سے خدایا! کیا خطائیں

وہ کب رویا گلے لگ کر ہمارے

ہمیں پھر رنج و غم کیوں کر ستائیں

ہمارے بچے تو پڑھتے نہیں ہیں

چلو دشمن کے بچوں کو پڑھائیں

وہ لختِ دل بھی ہے خونِ جگر بھی

وفا کر کے ملی ہیں یہ غذائیں

خدایا! کون ہے اہلِ وفا کا

کہاں جا کر یہ پاگل دل لگائیں

وفا کے غم انہیں بھی دے خدایا

وہ خود بھی چوٹ کھا کر جان جائیں


سیف علی عدیل

No comments:

Post a Comment