اتارا شیشے میں اک شیشہ باز نے ہم کو
بہاروں میں دیا غم جاں گداز نے ہم کو
خیالِ حسن ہی باغِ بہشت ہوتا ہے
بڑی تسلیاں دیں ہیں فراز نے ہم کو
حجابِ راہ ہے منزل نہیں رباب و چنگ
دیا ہے راز محبت کے ساز نے ہم کو
لبادہ اوڑھ کے مٹی کا چھپ گیا ہے خود
گناہ گار کیا امتیاز نے ہم کو
ہمارا ضبط ہمیں ہی فنا کرے گا سیف
کہیں کا چھوڑا نہ اس دلنواز نے ہم کو
سیف علی عدیل
No comments:
Post a Comment