Monday, 21 March 2022

سورج کی ہتھیلی پہ جمی دھرتی پر

ماں


سورج کی ہتھیلی پہ جمی دھرتی پر

ماں کے بے انت سائے میں

زندگی کی جڑی بوٹیاں

نشو و نما پاتی ہیں

دیکھتے ہی دیکھتے

صحن گلزار بن جاتا ہے

پھولوں کی ہنسی اور

رنگوں کی بارش سے

سبزے کی بے نور آنکھیں

چمک اُٹھتی ہیں

چڑیاں چہک اُٹھتی ہیں 

اور پھر لمحہ لمحہ

مہ و سال کی تتلیاں

اُڑنے لگتی ہیں

اسی غبار رنگ کی دھنک میں

ماں کے بے انت سائے پر

کئی نامعلوم جہتوں سے

قضا کے تیر چلنے لگتے ہیں

پاس بیٹھے ہوئے بچے

بلکنے لگتے ہیں

ترسنے لگتے ہیں

اور جب ہر چیز روٹھ جاتی ہے

تو اُس کی مہرباں یاد

وقت کا مرہم لیے گزرتی ہے

صبر کا پرچم لیے گزرتی ہے


سیف علی عدیل

No comments:

Post a Comment