Monday, 21 March 2022

میں خود کشی سے پہلے لکھا گیا آخری خط ہوں

 طبعی موت پر خود کشی کا ماتم


میں اعتراف کرتا ہوں 

میں خود کشی سے پہلے لکھا گیا آخری خط ہوں

زندہ رہنے اور اپنے ہمزاد کو گالیاں دینے میں کوئی فرق نہیں

مجھے خود سے سوتیلی ماں جتنی ہمدردی ہے

میں تنہائی کو ذبح کر کے 

سمندر میں پھینک آیا ہوں اب میں خود کو 

کسی بھی دوسرے شخص کے نام سے پکار سکتا ہوں

سانس لینے کا مشغلہ اختیار کرنا 

اور بد صورت لڑکی کو 

چائے کی دعوت دینا 

بالکل ایک جیسا ناٹک ہے

میں اپنا چہرہ پھاڑ کر پھینک چکا ہوں 

اب مجھے کوئی نہیں پہچانتا

جیسے میں نے تمہیں 

بے لباس دیکھنے کے بعد 

قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا

بوڑھا پن میرے اندر

کسی نادیدہ خوف کی طرح پھیل رہا ہے

ممکن ہے میں کسی دن 

خود کو کہیں رکھ کر بھول جاؤں گا

اپنی یاداشت دفنانے 

میں ایک جنگل میں نکل آیا ہوں

پرندے مجھے اپنا بچھڑا ہوا بھائی سمجھ رہے ہیں

درختوں کی خوفناک داڑھیاں 

خود کو محفوظ رکھنے کے لیے 

میرے تعاقب میں نکل آئی ہیں

پاؤں میں پہنی ہوئی سانسیں 

مجھے خود سے لپیٹ لیتی ہیں 

اور میں خوفزدہ ہو کر 

خود کو کسی گلے میں پھنسا 

مچھلی کا کانٹا محسوس کرتا ہوں

میں خود کو قتل کرنے کے بعد 

ایک نظر اپنی لاش کو دیکھوں گا 

جیسے نابینا کھلاڑی نے 

پرانے صندوق سے ملنے والی لالٹین کو 

چھت کے کونے میں پھینک کر 

آخری بار حقارت کی نظر سے دیکھا تھا


ذیشان راٹھور

No comments:

Post a Comment