Monday, 21 March 2022

جو تاریخ میں رقم نہیں ہوتی نفس امید کو دہشت گردی

 دہشت گردی


جو تاریخ میں رقم نہیں ہوتی

نفسِ امید کو دہشت گردی

ہر روز

بہلا کر، خوابوں کی

دنیا میں لے جانا پڑتا ہے

ممنوع ہیں جہاں چین کی گھڑیاں

جن میں متشدد خیالات کا بوجھ

رات کے پچھلے پہر

مسکنِ نیند میں، چپکے سے چلا آتا ہے

اور، بے وجہ خوابوں کی پٹاری سے

نکل پڑتے ہیں، پھر سے

پھنکارتے ہوئے، ناگوں کی طرح

صدیوں سے دفن فتنوں کے

دلدوز عذاب

جو دکھا دیتے ہیں

رُوحِ گھائل پہ عیاں

دہشتوں کے نشاں اور

وہ چہرے، جن کی شناخت کے حوالے

تاریخِ جبر انساں میں

نہ کبھی رقم ہوئے

نہ ہی جرأت کہ، کوئی

پکارے کسی کا نام

بند ہو چکے، تابوتِ حبس میں

خفیہ فتنے

مگر آج بھی زندہ ہیں

کاروبارِ بازارِ سیاست کے علمدار

جن کی پُر آسیب نگاہوں کا

دلافریب تبسم

گھائل کر دیتا ہے

نوعِ سادہ کے

معصوم سے جذبات

آج بھی بند ہوتی ہے

سینۂ خاموش میں

دل کی دھڑکن


قیصر اقبال 

No comments:

Post a Comment