Wednesday, 8 January 2014

قدم قدم پہ دیا ایک امتحاں میں نے

قدم قدم پہ دِیا ایک امتحاں میں نے
گزار دی ہے مگر عمر رائیگاں میں نے
یہ اور بات کہ آنکھوں نے کہہ دیا سب کچھ
ترے حضور میں کھولی نہیں زباں میں نے
رہا یہ خوف کہ ناکام ہو نہ جائیں کہیں
جبھی لیا نہیں یاروں کا امتحاں میں نے
میں آئینے میں ترا عکس ڈھونڈ سکتا تھا
یقیں کے سامنے رکھا نہیں گماں میں نے
یہ گردِ راہ نہیں، دوستو! ستارے ہیں
اٹھا رکھی ہے کوئی سر پہ کہکشاں میں نے
وہی ہے راستہ، منزل بھی ہے وہی میری
تو کس گمان میں بدلا ہے کارواں میں نے
ابھی سے برہمی آنے لگی ہواؤں میں
ابھی تو کھولے ہیں کشتی کے بادباں میں نے
’’مری تو نیند، مِرا خواب ٹُوٹنے سے کُھلی‘‘
سنی نہیں کوئی آواز ناگہاں میں نے
فصیحؔ وہ مِرا ہمدرد بھی نہیں ہے، تو پھر
اُسے سُنائی ہے کیوں اپنی داستاں میں نے
وطن کے خار ہیں میری نظر میں پُھول فصیحؔ
دیارِ غیر کی جَھیلی ہیں سختیاں میں نے

شاہین فصیح ربانی

No comments:

Post a Comment