زمیں کی آنکھ پہ یہ آسمان کُھل گیا ہو
کہ اک خیال سے جیسے جہان کھل گیا ہو
یہ دل دلیلیں بہت مانگنے لگا ہے کہِیں
یہاں بھی دفترِ سود و زیان کھل گیا ہو
تمام گھاؤ مِری روح کی طرف لپکے
کہ جیسے زخموں کا دارالامان کھل گیا ہو
وہ یوں پھسلتا چلا جا رہا تھا بانہوں میں
کہ جیسے ہاتھ میں ریشم کا تھان کھل گیا ہو
وہ جس سے تم نے سِیا تھا فگار سینے کو
وہ اعتبار کا دھاگہ نہ جان کھل گیا ہو
یہ ساری باتیں ہوا تو بتا نہیں سکتی
کہیں کسی پہ نہ وہ رازدان کھل گیا ہو
منصور راٹھور
No comments:
Post a Comment