تمہیں اب سوچنا ہو گا
ہے کیسا جشن آزادی
ہے بربادی ہے بربادی
ٹھہرتا کیوں نہیں گلشن پہ میرے چین کا موسم
عذابوں میں گھرے ہیں ہم سرابوں میں گھرے ہیں ہم
چلے تھے ہم جہاں سے، پھر وہیں پر ہی کھڑے ہیں ہم
ہوائیں بین کرتی ہیں، ردائیں بین کرتی ہیں
یہ راتیں کیوں نہیں رکتیں
یہ گھاتیں کیوں نہیں رکتیں
یہ ڈر کیسا دلوں میں ہے، یہ ڈر کیسا دلوں میں ہے
کوئی سمجھائے ہم کو بھی
کوئی بتلائے ہم کو بھی
اگر آزاد ہیں
تو اس قدر ناشاد کیوں ہیں ہم
کیا تھا ہم نے حاصل کیوں
بھلا بیٹھے ہیں ہم سب کیوں
عطائے رب تھا یہ گلشن
وہ وعدے کیا ہوئے لوگو
وہ دعوے کیا ہوئے لوگو
مسلسل کھو رہے ہو تم
مسلسل رو رہے ہوتم
سمجھ تم کو نہیں آتا
تمہیں اب کون سمجھائے کہ
جب تقلید مغرب میں تمہارا دین ہے کھویا
تو اپنوں ہی کے ہاتھوں سے ارے نادان تو رویا
پڑا ہے آنکھ پر تیری ہوس اور بھوک کا پردہ
خدا کو بھول بیٹھا ہے، بنا تو پھول بیٹھا ہے
یہ فرقہ بندی کی باتیں بنائی تم نے جو ذاتیں
تجھے لے ڈوبی یہ باتیں کھڑی ہیں سامنے گھاتیں
کہ وحدت چھوڑ دی تم نے
غلامی مول لی تم نے
غلامی اوڑھ لی تم نے
ابھی بھی وقت ہے باقی
نہیں مایوس ہم لیکن تمہیں اب سوچنا ہو گا
تقاضا کر رہا ہے آج پھر گلشن کا ہر ذرہ
گروہوں میں بٹے لوگو
خدارا ایک ہو جائو
جلاؤ دیپ الفت کے
خدارا قوم ہو جاؤ
خدارا قوم ہو جاؤ
رقیہ غزل
No comments:
Post a Comment