ہم نے کیسے بے وفا سے کی ہے یاری ہائے ہائے
اِس خطا پر جان جائے گی ہماری ہائے ہائے
بہہ گیا پانی کی صورت سب میرا خونِ جِگر
دل نے کی آنکھوں سے ایسی اشکباری ہائے ہائے
پھول برسانے تھے جِس پہ راہِ عشق میں
کی اسی نے آج مجھ پہ سنگباری ہائے ہائے
ہم تو سمجھے تھے وہ آئیں گے تو آئے گا قرار
بڑھ گئی ہے اور دل کی بے قراری ہائے ہائے
رہ گئی تھی منزِل مقصُود دو چار گام
اس جگہ بازی میری قسمت نے ہاری ہائے ہائے
اِک طرف ہے بے خودی اور اِک طرف جوشِ جنوں
کیفیت ہے عشق کی دونوں پہ طاری ہائے ہائے
ہو گیا اس سے بِچھڑ کر اپنے غم میں مبتلا
ہو سکی نہ مجھ سے اس کی غمگساری ہائے ہائے
یاد بھی بھولے سے میری اب اس کو آتی نہیں
اٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری ہائے ہائے
شاخِ گل سمجھا تھا میں اس کے حنائی ہاتھ کو
نیمچہ ہے یہ تو تلواروں پہ بھاری ہائے ہائے
متین امروہوی
No comments:
Post a Comment