Saturday, 15 May 2021

ابھی خواہش بھی ہے جاناں ابھی رت بھی سہانی ہے

 ابھی خواہش بھی ہے جاناں ابھی رُت بھی سُہانی ہے

نجانے کب بدل جائے، دلوں کی کس نے جانی ہے

ابھی تم خام ہو تھوڑے، ابھی کندن نہیں کہتے

ابھی اک روک لگنا ہے، ابھی اک چوٹ کھانی ہے

بدلتے ہیں فقط ہم تم، بدلتا کچھ نہیں پیارے

وہی پچھلا زمانہ ہے، وہی پچھلی کہانی ہے

وہی گلیوں میں کچھ رانجھے، وہی کچھ جھانکتی ہیریں

وہی کہنہ حویلی ہے، وہی کھڑکی پرانی ہے

پلٹنا ہے تمہی نے اب، ہمیں آواز دینی ہے

ابھی تک تو چلو ہم نے ہمیشہ ہار مانی ہے

انہیں یہ فکر کہ رُسوائیاں نہ ہوں زمانے میں

ہمیں معلوم کہ خُوشبو ہوا میں پھیل جانی ہے


منصور راٹھور

No comments:

Post a Comment