Saturday, 15 May 2021

نہ آنے کے ان کے بہانے بھی دیکھے

 نہ آنے کے ان کے بہانے بھی دیکھے

بڑے سنگ دل وہ زمانے بھی دیکھے

ادھر بلبلیں رو رہی ہیں قفس کو

کہ صیاد گاتے ترانے بھی دیکھے

غموں کو بھُلانے جو نکلے ہیں گھر سے

اسی دُھن میں کچھ بادہ خانے بھی دیکھے

نہ پایا انہیں ہو کے مایوس لوٹے

سبھی ہم نے ان کے ٹھکانے بھی دیکھے

کبھی آئے گا وقت مہتاب اپنا

بہت ہم نے ان کے زمانے بھی دیکھے


بشیر مہتاب

No comments:

Post a Comment