عارفانہ کلام منقبت سلام بحضور امام حسینؑ
حسینؑ! ذکر تِرا گام گام کرتے ہوئے
گزر رہے ہیں زمانے سلام کرتے ہوئے
حسینؑ آپ نے سجدوں کو زندگی بخشی
بس ایک سجدۂ آخر تمام کرتے ہوئے
اٹھا کے پرچمِ عباسؑ ہم علیؑ والے
چلے ہیں فکرِ حسینی کو عام کرتے ہوئے
چلے ہیں جانب مقتل برائے دین نبی
حسینؑ تیغِ علیؑ بے نیام کرتے ہوئے
منافقین علیؑ کو، علیؑ کی لخت جگر
سبق سکھا گئی طے راہ شام کرتے ہوئے
اسے شجیعِ عرب تک رہے ہیں حیرت سے
جو مسکرا دیا حجت تمام کرتے ہوئے
اسے خبر تھی غریبوں پہ شام بھاری ہے
بہت اداس تھا سورج بھی شام کرتے ہوئے
زمین کیوں نہ پھٹی جس گھڑی چلے ظالم
ردائے فاطمہ زہراؑ کو عام کرتے ہوئے
چلیں جو دخترِ شبیرؑ ڈھونڈنے زینبؑ
ملی وہ لاشۂ شہؑ سے کلام کرتے ہوئے
لحد سے حشر تلک یوں سفر کرو کاشف
غمِ حسینؑ میں ماتم مدام کرتے ہوئے
کاشف حیدر رضوی
No comments:
Post a Comment