عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جب حسن تھا انؐ کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہو گا
ہر کوئی فدا ہے بِن دیکھے تو دیدار کا عالم کیا ہو گا
قدموں میں جبیں کو رہنے دو چہرے کا تصور مشکل ہے
جب چاند سے بڑھ کر ایڑی ہے تو رخسار کا عالم کیا ہو گا
اک سمت علیؓ اک سمت عمرؓ، صدیقؓ اِدھر عثمانؓ اُدھر
ان جگمگ جگمگ تاروں میں سرکارؐ کا عالم کیا ہو گا
جس وقت تھے خدمت میں ان کی ابوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و علیؓ
اس وقت رسول اکرمﷺ کے دربار کا عالم کیا ہو گا
چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی
یہ شان ہے ان کے غلاموں کی تو سرکارؐ کا عالم ہو گا
کہتے ہیں عرب کے ذروں پر انوار کی بارش ہوتی ہے
اے نجم! نہ جانے طیبہ کے گلزار کا عالم کیا ہو گا
نجم نعمانی
No comments:
Post a Comment