Saturday, 6 August 2022

الٰہی کتنی بے چینی ہے بے قراری ہے

 الٰہی کتنی بے چینی ہے، بے قراری ہے

جہاں کا ذرّہ ذرّہ مضطرِ ناسازگاری ہے

روانی جو انباروں کی کوئی تلوار ہے گویا

کہ جس کی دھار موقوفِ خرامِ لالہ کاری ہے

ہوا ہے آدمی کا خون سستا اس قدر، یعنی

لہو سے لالہ رنگ اپنے چمن کی کیاری کیاری ہے

ادب مانع ہے مجھ کو ورنہ تجھ سے اے خدا پوچھوں

ذرا کہنا، یہی رسم و رہِ پروردگاری ہے؟


ذکاءاللہ بسمل

No comments:

Post a Comment