Sunday, 9 August 2020

ایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پر

جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پر 
ایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پر 
آنکھ میں سائے کی خواہش پیٹ میں روٹی کی بھوک 
پھر بھی کیسی تازگی تھی پھول جیسے گال پر 
اس کو دیکھا تو اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا 
جیسے اک زخمی سی تتلی ایک ٹوٹی ڈال پر 
جانے کیسے اس کو میری پیاس کی پہنچی خبر 
لائی چاندی سے کٹورے سونے ایسے تھال پر 
پتلی پتلی روٹیوں کو چوپڑے گی ہاتھ سے 
ڈال کر تڑکا وہ مجھ کو دے گی پتلی دال پر 
میری نظروں سے چھپا کر اس سے آنکھیں پونچھ لیں 
اس نے میرا نام لکھ رکھا تھا جس رومال پر 

افتخار قیصر

No comments:

Post a Comment