لہو میں ڈوبی ہوئی پھر کوئی صدا آئی
الٰہی! خیر کہ مقتل سے پھر گھٹا آئی
بچھڑ گئی تھی کوئی روح اپنے سائے سے
کسی کو ڈھونڈنے والی کوئی صدا آئی
لرز اٹھا در و دیوار کا بھی سناٹا
کسی طرف سے اچانک جو یہ ہوا آئی
کسی کے عکس کے سائے میں جل رہا تھا میں
کہ شاخ دل سے الجھنے کو پھر صبا آئی
جھلس کے سارے پرندے ہوئے ہیں خاکستر
ہوا میں پنکھ پسارے ہوئے بلا آئی
بکھرتے جسم کو کیسے سنبھالتا کوئی
سکوت شہر میں جب زور سے ہوا آئی
تھکن سے چور ہوں اپنے ہی سائے میں سو لوں
جگانے مجھ کو ابھی کیوں مِری قضا آئی
مصطفیٰ مومن
No comments:
Post a Comment