بتا اے شہر کے حاکم
تمہارا قد ہے بالا تر
یا یہ بونوں کی بستی ہے
تمہیں حاصل ہے گویائی
یا یہ گونگوں کی نگری ہے
تم ہی بس آنکھ والے ہو
یا یہ ہے شہر نابینا
تمہارا حق چمکتے تاج کی جگمگاہٹ پر
ہمارا نام لکھا ہے پیلٹ گن کی سیاہی پر
تیری عزت بھی شہرت بھی تیری زلفوں پہ پہرے بھی
ہم ہی ہم بے امانوں کے تراشے جاتے ہیں گیسو
کہاں کوئی عدالت کوئی منصف کوئی چارہ گر
تمہارے واسطے حاکم کہاں قانون بنتے ہیں
لہو آلود دامن تک ترے کس کی رسائی ہے
یہاں ہر شاخ پر منقار زیر پر پرندے ہیں
کبھی ہو وقت تو سننا ذرا کیا کیا یہ کہتے ہیں
انہیں یاد آتا ہے شہر سبا اور ملکۂ بلقیس
نکہت فاروق نظر
No comments:
Post a Comment