Tuesday, 5 January 2021

کوئی عدالت کوئی منصف کوئی چارہ گر

 بتا اے شہر کے حاکم

تمہارا قد ہے بالا تر

یا یہ بونوں کی بستی ہے

تمہیں حاصل ہے گویائی

یا یہ گونگوں کی نگری ہے

تم ہی بس آنکھ والے ہو

یا یہ ہے شہر نابینا

تمہارا حق چمکتے تاج کی جگمگاہٹ پر

ہمارا نام لکھا ہے پیلٹ گن کی سیاہی پر

تیری عزت بھی شہرت بھی تیری زلفوں پہ پہرے بھی

ہم ہی ہم بے امانوں کے تراشے جاتے ہیں گیسو

کہاں کوئی عدالت کوئی منصف کوئی چارہ گر

تمہارے واسطے حاکم کہاں قانون بنتے ہیں

لہو آلود دامن تک ترے کس کی رسائی ہے

یہاں ہر شاخ پر منقار زیر پر پرندے ہیں

کبھی ہو وقت تو سننا ذرا کیا کیا یہ کہتے ہیں

انہیں یاد آتا ہے شہر سبا اور ملکۂ بلقیس


نکہت فاروق نظر

No comments:

Post a Comment