Tuesday, 5 January 2021

یہ کس نے بوئی چنگاریاں تیری زمینوں میں

 کہیں کوئی نہیں

یہ کس نے بوئی چنگاریاں تیری زمینوں میں

یہ کس نے آگ سی سلگائی ہے معصوم سینوں میں

کوئی ویران موسم آ بسا بارہ مہینوں میں

کہ جیسے ہو نہ تاثیریں ہی اب جھکتی جبینوں میں

کسی نے باغباں بن کر جلایا مرغزاروں کو

کسی نے سائباں بن کر اجاڑا ہے بہاروں کو

خزاں نے دیکھ ڈالا گھر تِرے سب لالہ زاروں کا

نشاط و چشمہ شاہی، ڈل، وُلر کا شالماروں کا

تِرے جھرنے، پہاڑوں، ندیوں کا آبشاروں کا

سکوں کے ہر خزانے پر ہے پہرا شاہماروں کا

سبھی تیری زمیں پر چاہتے ہیں آسماں اپنا

جڑوں کو گھن لگا کر ٹہنیوں پر آشیاں اپنا

تیری ہر آبجو میں سم قاتل کیوں ملایا ہے

تِرے سب گلشنوں کو کس نے گورستاں بنایا ہے

یہ بلبل کے سُریلے گیت کو کس نے ڈرایا ہے

دھنک رنگ آسماں پر یہ دھواں کیوں آن چھایا ہے

تیری عظمت کے قائل شاہوں کی ہر یاد روتی ہے

ہزاروں سال کی تاریخ شرمندہ سی ہوتی ہے


ترنم ریاض

No comments:

Post a Comment