Sunday, 6 February 2022

رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئی

 رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئی

بھڑکا کے آگ بھیگی ہوئی رات بھی گئی

لے خود نگر چلے تِری محفل سے اٹھ کے ہم

تجھ سے تو مل کے عشق کی اوقات بھی گئی

کچھ آپ مست ناز تھے کچھ ہم غیور تھے

تھوڑی بہت جو تھی وہ ملاقات بھی گئی

کیا جانے کس امید پہ ہے انتظار اب

حالانکہ وہ امید ملاقات بھی گئی

مرجھا چلا ہے آخری تارا بھی اے شہاب

سو جائیے اب آپ کہ یہ رات بھی گئی


شہاب اشرف

No comments:

Post a Comment