خواب بن کے بکھر گیا چہرہ
وہ نظر سے اُتر گیا چہرہ
چھین کر سانس لے گیا میری
رنگ پی کر نکھر گیا چہرہ
بتیی شب میں جو آنکھ سے ٹپکا
کیا گیلا سا کر گیا چہرہ
میں ردا میں چھپا رہی تھی مگر
زخم ایسے تھے بھر گیا چہرہ
خالی ہاتھوں کو تکتی رہتی تھی
یوں ہوا پھر اُتر گیا چہرہ
رخسانہ نور
No comments:
Post a Comment