Sunday, 6 February 2022

خواب بن کے بکھر گیا چہرہ

 خواب بن کے بکھر گیا چہرہ

وہ نظر سے اُتر گیا چہرہ

چھین کر سانس لے گیا میری

رنگ پی کر نکھر گیا چہرہ

بتیی شب میں جو آنکھ سے ٹپکا

کیا گیلا سا کر گیا چہرہ

میں ردا میں چھپا رہی تھی مگر

زخم ایسے تھے بھر گیا چہرہ

خالی ہاتھوں کو تکتی رہتی تھی

یوں ہوا پھر اُتر گیا چہرہ


رخسانہ نور

No comments:

Post a Comment