Monday, 5 July 2021

اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں

اک سمندر سا گرا تھا مجھ میں

پھر بہت شور ہوا تھا مجھ میں

راستے سارے ہی مانوس سے تھے

اک فقط میں ہی نیا تھا مجھ میں

میں بھی تصویر سا چسپاں تھا کہیں

سانحہ یہ بھی ہوا تھا مجھ میں

خاک اور خون میں نہلایا ہوا

کب سے اک شخص پڑا تھا مجھ میں

برف کی تہہ میں لرزتی ہوئی لاش

ایسا منظر بھی چھپا تھا مجھ میں

میں سمجھتا تھا جسے جان نفس

وہ بہت دور کھڑا تھا مجھ میں

اس نے کیوں چھوڑ دیا خانۂ دل

نقش ہر لمس ہرا تھا مجھ میں

رقص کرتے ہوئے تاروں کا ہجوم

یہ خزانہ بھی گڑا تھا مجھ میں

آسماں خوف سے تکتا تھا مجھے

کیا کوئی اس سے بڑا تھا مجھ میں


نسیم اجمل

No comments:

Post a Comment