Monday, 5 July 2021

دل میں امنگ اور ارادہ کوئی تو ہو

 دل میں امنگ اور ارادہ کوئی تو ہو

بے کیف زندگی میں تماشا کوئی تو ہو

یہ کیا کہ دفن ہو گئے چپ چاپ قبر میں

مرنے کے بعد موت کا جلسہ کوئی تو ہو

کوئی تو نام لے کے پکارے ہمیں یہاں

اس بھیڑ میں ہمارا شناسا کوئی تو ہو

ملتی نہیں ہے خاک کہیں سر پہ ڈالنے

دریا بہت سے دیکھے ہیں صحرا کوئی تو ہو

آنکھوں میں نُور ہے، نہ حلاوت زبان میں

احباب اتنے سارے ہیں، میٹھا کوئی تو ہو

باتوں سے عقل و فہم کی تنگ آ چکا ہوں میں

دانش کدہ میں ایک دِوانہ کوئی تو ہو

یہ سچ ہے میں ہوں قید خیالوں میں خواب میں

جینے کے واسطے مِرے دنیا کوئی تو ہو

مر کر دوام پاؤں یہ اُمید تو نہیں

میری کہانی بعد میں کہتا کوئی تو ہو


خلیل مامون​

No comments:

Post a Comment