تشنگی
عجب بات ہے میں جب کبھی ملا تم سے
کچھ اور تشنہ لبی بڑھ گئی مِرے اندر
میں سوچتا تھا کہ اک بار تم سے ملنے پر
تمام پیاس، ہر اک آرزو، تمام تشنہ لبی
قرار پائے گی بے چین رُوح مِری
مگر میں تم سے ملا تو بڑھ گئی کچھ اور تشنہ لبی
بڑا عجیب سا احساس اور محرومی
یہ کون سا جذبہ ہے اس کا نام ہے کیا
طویل تر ہو ملاقات پھر بھی تشنہ لبی
مِرے خیال سے میرا وجود تم میں ہے
تمہارے قُرب سے تکمیل میری ہوتی ہے
تمہارا ہجر بنا دیتا ہے ادھورا مجھے
میں اپنے آپ کو پھر سے تلاش کرتا ہوں
رشید اختر
No comments:
Post a Comment