Thursday, 8 July 2021

چاند تاروں کو ضیا دیتا ہے

چاند تاروں کو ضیا دیتا ہے

مجھ کو مجھ سے وہ ملا دیتا ہے

یوں بھی ہوتا ہے کبھی رات گئے

یک بیک مجھ کو جگا دیتا ہے

آنکھ کھولوں تو وہ ہنستا ہے بہت

خواب دیکھوں تو ڈرا دیتا ہے

چھپتا پھرتا ہے نگاہوں سے میری

درد بھی کتنا بڑا دیتا ہے

اس سے پوچھوں جو کبھی اس کا پتا

اپنی آواز سنا دیتا ہے

یوں گزرتا ہے مِری جان سے وہ

پھول صحرا میں کھلا دیتا ہے

یاد رکھتا ہے ہر اک وقت مجھے

وقت آنے پہ بھلا دیتا ہے

پھونک دیتا ہے مِرے درد میں روح

روح میں درد بسا دیتا ہے

ہر شب تار نئے خواب کی اوس

میری پلکوں پہ سجا دیتا ہے

اور بہت دور گزر گاہوں میں

ایک قندیل جلا دیتا ہے


نسیم اجمل

No comments:

Post a Comment