Thursday, 8 July 2021

اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اور

 اس حُسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اور

میری اداس راتوں کے بُجھتے دِیے تھے اور

زخموں کو نوکِ خار کی لذت پسند تھی

ویسے تمہارے گھر کے کئی راستے تھے اور

میں ہی نہیں تھا کھوکھلے پیڑوں کے درمیاں

مجھ جیسے نا شناس وہاں پر کھڑے تھے اور

اس سے بچھڑ کے رونے کی فرصت نہیں ملی

قرطاسِ زندگی پہ کئی غم لکھے تھے، اور

دامن میں جو گُہر ہیں نتیجے ہیں عشق کے

پہلے جو میرے پاس تھے وہ آئینے تھے اور

ساقی! بچا لی آبرو تُو نے خود اپنی آج

ورنہ مِری منظر میں کئی میکدے تھے اور

جس کے اک ایک مصرعے میں رہتا تھا اس کا ذکر

عاجز وہ شعر اور تھے، وہ قافیے تھے اور


لئیق عاجز

No comments:

Post a Comment