عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
نبی کا سایۂ رحمت
کسی کے سر پہ ہے ظلِ ہمایونی کا ہمسایہ
کسی پر سایۂ جن یا مہر و ماہ کا سایہ
کسی کا دل، دلِ بے چین، جانا دل کا جب سایہ
کوئی سایہ میں آتا ہے، کسی سے دور ہے سایہ
مگر مؤمن کے سر پر ہے رسول اللہ کا سایہ
اسی کے سایۂ رحمت میں ہے تقدیر کا سایہ
رسول اللہؐ کی صورت کے پرتو ہیں مہ و خورشید
زمیں پر کیوں نہ روشن ہو اسی خورشید کا سایہ
نبیﷺ کا سا نہیں کوئی، ہے سایہ کی وہاں تردید
مگر سایہ کو چاہے وہ، جو آنکھوں سے ہے بے سایہ
سراپا نورِ جسمی تھا، کہ جس میں ہے نہیں سایہ
کہیں دیکھا، بھلا روحِ مجسمﷺ کا کہیں سایہ
محمدﷺ روحِ اقدس ہیں، تو سایہ بھی لطافت سے
جو دیکھے عین سے سایہ، تو پائے گا لطافت سے
قرانِ پاک کے معنی پہ لفظوں کا جو گر سایہ
تو کیا معنی و تاولیں تُو پڑھ لے گا نظارت سے
سراپا چشم ہو گر تُو، سراپا تُو بصیرت ہے
تو کیا شک ہے، تُو پا لے گا تیری تقدیر کا سایہ
تیرے سایہ کو اے احمدؐ ترا ہی ظل کہتے ہیں
مگر فاضل ہی جانے ہے تیری تقدیر کا سایہ
قیامت تک رہے گا فرقِ عالم پر ترا سایہ
جو سایہ، سایۂ کل ہے، رہے گا ہم پہ وہ سایہ
تجھے سعدی دکھائے عین، سایہ ظلِ رحمت کا
جو سایہ ہو بہو ہو، عین ہو، ظلِ الٰہی کا
سعداللہ سعدی
No comments:
Post a Comment