عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
بشر کے مایۂ اخلاق پر جب بھی زوال آیا
تو میزانِ عمل لے، ہر نبئ بے مثال آیا
مگر خُلقِ عمل کو تاج پہنانے جو آیا ہے
بشر کے بھیس میں فوق البشر، یہ ہلال آیا
بشارت اس گہر کی دی مسیحِ مجتبائی نے
کہ احمدؐ نام ہے اِس کا، طبیبِ باکمال آیا
وہ کیا آیا کہ مانو اک اُجالے کا ہلال آیا
بہت کیا، بلکہ کُل آیاتِ قرانی مِن الحمد
الی الناسِ، وہ جملہ مِن ربِ ذُوالجلال آیا
حبیبی کا ذکر لیکن، وہ طٰہٰ میں کیا ایسے
کہ چند آیات کے ذریعے محمدﷺ کا جلال آیا
حبیبی کے حریموں کو فضیلت رب نے ایسی دی
ہوئے اُنثی، مگر اخلاق میں ذکرِ رجال آیا
جو پہلے پہل دعوت کی، بلانا تھا نمازوں میں
اذاں کی ایسی خدمت میں بلالِؓ ذوکمال آیا
ہے حکمِ رب کہ نامِ اُو پہ کہنا ہے سلامِ پاک
اسی دم چہرۂ عاصی پہ دسِت خستہ حال آیا
وہ سلمانیؓ سوالیں ہوں کہ بوذرؓ کے مثالیں ہوں
وہ حل کرنے سوالوں کو جوابِ ہر سوال آیا
خطا اور ذنب و عصیاں سے جو مومن تلملا اٹھے
شفاعت کی دوائیں لے، طبیبِ پُر جمال آیا
تیرے دربار میں یارا نہیں ہے نطقِ سعدی کو
مگر بلگے ہوئے، عاصی، تیرا دامانِ آل آیا
سعداللہ سعدی
No comments:
Post a Comment