یہ ہنر سب کو ہی عطا ہوا تھا
ہر کوئی عشق سے بندھا ہوا تھا
خود سے میں اس لیے مخاطب تھی
آئینہ سامنے پڑا ہوا تھا
میں محبت ہی اوڑھتی تھی، مِرے
ہر دوپٹے پہ دل بنا ہوا تھا
اس سے ٹکرا کے مر گئی تتلی
پھول دیوار پر بنا ہوا تھا
میری آنکھوں نے کر دیا تھا حسیں
دیکھنے سے تُو دل رُبا ہوا تھا
تھی شرارت فقط ہواؤں کی
پھول خوشبو سے کب جدا ہوا تھا
اس لیے نیند کو دعائیں دیں
خواب میں کوئی آشنا ہوا تھا
گل حوریہ
No comments:
Post a Comment