Thursday, 4 March 2021

یہ ہنر سب کو ہی عطا ہوا تھا

 یہ ہنر سب کو ہی عطا ہوا تھا

ہر کوئی عشق سے بندھا ہوا تھا

خود سے میں اس لیے مخاطب تھی

آئینہ سامنے پڑا ہوا تھا

میں محبت ہی اوڑھتی تھی، مِرے

ہر دوپٹے پہ دل بنا ہوا تھا

اس سے ٹکرا کے مر گئی تتلی

پھول دیوار پر بنا ہوا تھا

میری آنکھوں نے کر دیا تھا حسیں

دیکھنے سے تُو دل رُبا ہوا تھا

تھی شرارت فقط ہواؤں کی

پھول خوشبو سے کب جدا ہوا تھا

اس لیے نیند کو دعائیں دیں

خواب میں کوئی آشنا ہوا تھا


گل حوریہ

No comments:

Post a Comment