تِرا خیال کر کے دل نشیں میں نے
مِٹا دیا ہے جو تھا فرق کُفر و دِیں میں نے
محبت اور محبت میں وسوسے دل کے
بنایا خود ہی زمانہ کو نکتہ چِیں میں نے
جنونِ عشق پہ اب دیکھیں کیا کہے دنیا
بنا لیا ہے گریباں کو آستیں میں نے
ہزار ہے مہ و انجم میں جلوہ نگیں
تیرا جواب نہ پایا مگر کہیں میں نے
سجودِ شوق پہ دنیا کو کیوں یہ حیرت ہے
چمکتے ذروں پہ رکھ دی اگر جبیں میں نے
عنبر وارثی
No comments:
Post a Comment