Sunday, 4 June 2023

مبتلا خود کو کسی غم میں مسلسل رکھنا

 مبتلا خود کو کسی غم میں مسلسل رکھنا

اور اس غم کو تری آنکھ سے اوجھل رکھنا

چاند کھڑکی میں کبھی دھوپ میں بادل رکھنا

دھیان رکھنا جو کسی کا تو ہر اک پل رکھنا

چلنا سیکھا ہی نہیں راہ سے ہٹ کر ہم نے

اک قدم اس کی طرف اک سُوئے مقتل رکھنا

دیکھنا ماند نہ پڑ جائیں غم ہجر میں یہ

تم شب وصل کا ان آنکھوں میں کاجل رکھنا

اک ذرا بات سے اس جان پہ بن آتی تھی

راس آیا بھی تو غم سے اسے بوجھل رکھنا

جس کو کہنا تھا اسی کو نہیں کہنا اور پھر

کیسے اندیشوں میں خود کو یونہی پاگل رکھنا

ایسا لگنا کہ یہ آنکھیں تو برستی ہی نہیں

سیل غم سے مگر اندر کوئی جل تھل رکھنا

ہم تو اس عرصۂ ہستی میں جھلستے ہی رہے

نہ ہوا دھوپ میں اک خواب کا بادل رکھنا


خالد محمود ذکی

No comments:

Post a Comment