بے مکانی راس آئے گی مکاں ہونے کے بعد
یہ زمیں مجھ کو روئے گی آسماں ہونے کے بعد
اچھی باتیں اچھے لوگوں کی تمنا چھوڑئیے
دل کو سمجھایا بہت، لیکن زباں ہونے کے بعد
ایک پل خوش فہمیوں کا، لے گیا سارا ہنر
ڈھونڈتا پھرتا ہوں خود کو، رائیگاں ہونے کے بعد
میں اکیلا تھا، تو کتنی منزلیں سر ہو گئیں
ٹوٹ کر بکھرا ہوں میرِ کارواں ہونے کے بعد
آسمانوں سے اتر آئے تھے اختر کس لیے
شمع کی چوکھٹ پہ بیٹھے ہو، دھواں ہونے کے بعد
اختر جمال
No comments:
Post a Comment