Sunday, 4 June 2023

بے مکانی راس آئے گی مکاں ہونے کے بعد

 بے مکانی راس آئے گی مکاں ہونے کے بعد

یہ زمیں مجھ کو روئے گی آسماں ہونے کے بعد

اچھی باتیں اچھے لوگوں کی تمنا چھوڑئیے

دل کو سمجھایا بہت، لیکن زباں ہونے کے بعد

ایک پل خوش فہمیوں کا، لے گیا سارا ہنر

ڈھونڈتا پھرتا ہوں خود کو، رائیگاں ہونے کے بعد

میں اکیلا تھا، تو کتنی منزلیں سر ہو گئیں

ٹوٹ کر بکھرا ہوں میرِ کارواں ہونے کے بعد

آسمانوں سے اتر آئے تھے اختر کس لیے

شمع کی چوکھٹ پہ بیٹھے ہو، دھواں ہونے کے بعد


اختر جمال

No comments:

Post a Comment