Monday, 1 August 2022

تیرگی میں جل اٹھنا چاندنی میں کھو جانا

 تیرگی میں جل اٹھنا چاندنی میں کھو جانا

کس طرح ہوا ممکن پانیوں پہ سو جانا

عمر بھر کی چاہت کا ایک ہی صلہ پایا

درد نے ہمیں سمجھا ہم نے درد کو جانا

ایک رنگ اپنا ہے رات رت کی چھاؤں میں

چاندنی بھی آئے گی تم بھی آ کے رو جانا

بادلوں کے سائے میں یہ تو ان کی عادت ہے

جس کے سر پہ سورج ہو اس کے ساتھ ہو جانا


انعام الحق جاوید

No comments:

Post a Comment