وصل اس سے نہ ہو وصال تو ہو
کہیں قصے کو انفعال تو ہو
نہ سہی لطف کچھ عتاب سہی
اس کے دل میں مِرا خیال تو ہو
کیوں نہ تجھ کو حنا سے ہو رغبت
یوں کوئی اور پائمال تو ہو
مصلحت ہے طپیدگی دل کی
مگر ان کو ادھر خیال تو ہو
قول اپنا یہی ہے اے رونق
کوئی فن ہو مگر کمال تو ہو
رونق ٹونکوی
No comments:
Post a Comment