Monday, 1 August 2022

وصل اس سے نہ ہو وصال تو ہو

 وصل اس سے نہ ہو وصال تو ہو

کہیں قصے کو انفعال تو ہو

نہ سہی لطف کچھ عتاب سہی

اس کے دل میں مِرا خیال تو ہو

کیوں نہ تجھ کو حنا سے ہو رغبت

یوں کوئی اور پائمال تو ہو

مصلحت ہے طپیدگی دل کی

مگر ان کو ادھر خیال تو ہو

قول اپنا یہی ہے اے رونق

کوئی فن ہو مگر کمال تو ہو


رونق ٹونکوی

No comments:

Post a Comment