Monday, 1 August 2022

روشنی اجنبی سی لگتی ہے

 روشنی اجنبی سی لگتی ہے

آنکھ میں کرکری سی لگتی ہے

وہ کہیں دور ہنس رہی ہو گی

پھول میں تازگی سی لگتی ہے

اس نے کپڑے وہاں سکھائے تھے

وہ جہاں روشنی سی لگتی ہے

اوس کی بوند سبز پتے پر

ایک ننھی پری سی لگتی ہے

تیرے بن کچھ کمی نہیں لیکن

پھر بھی کوئی کمی سی لگتی ہے

رات بارش نے بال کھولے تھے

لان میں کچھ نمی سی لگتی ہے


رحمان مصور

No comments:

Post a Comment