یہ تو اک اچھی خبر ہے تیرگی کے واسطے
گھر جلائے جا رہے ہیں روشنی کے واسطے
آ گئے بزمِ طرب میں کارِ وحشت چھوڑ کر
اور کیا کرتے بھلا ہم زندگی کے واسطے
تعزیت کے چند جملوں کو غنیمت جانئے
کون روتا ہے یہاں پر اب کسی کے واسطے
خنجروں کی دھار پہ چلتا رہا میں عمر بھر
پاؤں زخمی کر لیے ہیں اک خوشی کے واسطے
اس زمین پر آسماں برہم نہ ہو تو کیا کرے
زندگی ترسے جہاں پر زندگی کے واسطے
اے جبینِ شوق! اتنی جستجو اچھی نہیں
اک خدا کافی نہیں کیا بندگی کے واسطے
جستجو کی راہ پر چلنے سے پہلے سوچ لیں
ظرف شرطِ اولین ہے آگہی کے واسطے
اصل میں ہم لوگ تو باغِ عدم کے ہیں مکیں
یہ لباسِ زیست پہنا ہے کسی کے واسطے
جانے کس نے رکھ دیا ہے رہگزر میں آئینہ
خاک اڑائی جا رہی ہے بس اسی کے واسطے
نفرتوں کی آگ میں فیاض سب کچھ جل گیا
اس زمیں پر کیا بچا ہے آدمی کے واسطے
فیاض علی
No comments:
Post a Comment