جینے کے اگر چند سہارے بھی ملے ہیں
تو جان سے جانے کے اشارے بھی ملے ہیں
ہر چند رہِ عشق کے غم سخت ہیں، لیکن
اس راہ کے کچھ غم ہمیں پیارے بھی ملے ہیں
کچھ اپنی وفاؤں سے جو امید تھی ہم کو
کچھ ان کی نگاہوں کے سہارے بھی ملے ہیں
اے راہرو راہ جنوں! بھول نہ جانا
اس راہ میں جی جان سے ہارے بھی ملے ہیں
الزامِ تغافل ہمیں تسلیم ہے، لیکن
بدلے ہوئے انداز تمہارے بھی ملے ہیں
کیا کیجیے تدبیر سے ہارا نہیں جاتا
گو راہ میں تقدیر کے مارے بھی ملے ہیں
طوفاں میں سبھی ڈوب تو جاتے نہیں اخگر
کچھ لوگوں کو طوفاں میں کنارے بھی ملے ہیں
اخگر مشتاق رحیم آبادی
No comments:
Post a Comment