Sunday, 18 April 2021

کتنے دیپ بجھتے ہیں کتنے دیپ جلتے ہیں

 کتنے دیپ بجھتے ہیں کتنے دیپ جلتے ہیں

عزم زندگی لے کر پھر بھی لوگ چلتے ہیں

کارواں کے چلنے سے کارواں کے رکنے تک

منزلیں نہیں یارو! راستے بدلتے ہیں

موج موج طوفاں ہے موج موج ساحل ہے

کتنے ڈوب جاتے ہیں کتنے بچ نکلتے ہیں

مہر‌‌ و ماہ و انجم بھی اب اسیر گیتی ہیں

فکر نو کی عظمت سے روز و شب بدلتے ہیں

بحر و بر کے سینے بھی زیست کے سفینے بھی

تیرگی نگلتے ہیں روشنی اگلتے ہیں

اک بہار آتی ہے اک بہار جاتی ہے

غنچے مسکراتے ہیں پھُول ہاتھ ملتے ہیں


صہبا لکھنوی

No comments:

Post a Comment