Friday, 2 April 2021

چاند جب میرے گھر‌ میں‌ ہوتا ہے

 چاند جب میرے گھر‌ میں‌ ہوتا ہے

رقص اک بام و در میں‌ ہوتا ہے

تم کو دیکھا تو یہ کُھلا دل پر

عشق پہلی نظر میں‌ ہوتا ہے

چھُوٹ جاتا ہے ہاتھ رستے میں

سانحہ یہ سفر میں‌ ہوتا ہے

کب ہوا لے گئی بلندی پر

حوصلہ بال و پر میں‌ ہوتا ہے

ہو محبت تو ایک رنگِ بہار

موسمِ بے ثمر میں‌ ہوتا ہے

وہ اثر جس سے دل پگھل جائیں

گفتگو کے ہُنر میں‌ ہوتا ہے

وہ تلاطم کہاں سمندر میں

جو مِری چشمِ تر میں‌ ہوتا ہے

راہ تکتا ہے دار خود اُس کی

جو تِری راہ گزر میں‌ ہوتا ہے

خواہشیں جب مجھے ستاتی ہیں

معرکہ خیر و شر میں ہوتا ہے

رقص ہوتا ہے رات بھر فیاض

اور ماتم سحر میں‌ ہوتا ہے


فیاض علی

No comments:

Post a Comment