عشق کیا ہے حسن کے جلوؤں میں کھو جانے کا نام
اک حقیقت، دے دیا ہے جس کو افسانے کا نام
کھل چکا گو مدتیں گزریں بہاروں کا فریب
پھر بھی موضوع سخن ہے تیرے دیوانے کا نام
میری بربادی کے افسانے میں اے داستاں طراز
کیا ضروری ہے کہ آئے اپنے بےگانے کا نام
آپ کی آنکھوں میں کھنچتی ہے شرابِ زندگی
جانے کس نے لے دیا مستی میں مےخانے کا نام
دل ہوا جب سے شریکِ منزلِ حال و مقام
عقل لیتی ہی نہیں ہے سامنے آنے کا نام
اہلِ محفل سے نہیں اہلِ نظر سے پوچھئے
کتنا روشن ہو گیا ہے جل کے پروانے کا نام
موت کیا ہے شورشِ بازار ہستی سے فرار
زندگی کیا ہے غمِ دل راس آ جانے کا نام
آپ کی مستی بھری نظروں سے پی لیتا ہوں میں
وہ تو یوں ہی آ گیا لب پہ پیمانے کا نام
جمیل نقوی
No comments:
Post a Comment