صحرا صحرا گھوم رہے ہیں کیا کیا سوانگ رچائے ہیں
آج تمہارے شہر میں پیارے جوگی بن کر آئے ہیں
چاروں اور اندھیرا پا کر من کی جوت جگائے ہیں
جو عالم میں رُسوا کر دے ایسا روگ لگائے ہیں
غم کی باتیں کہتے کہتے ہونٹوں کو سی لیتے ہیں
کتنا بوجھ ہے بھاری دل پر جو برسوں سے اُٹھائے ہیں
ہم ہیں تنہا، رین اندھیری، طوفانوں کا جھونکا بھی
جلتے ہی بُجھ جاتے ہیں سب جتنے چراغ جلائے ہیں
صوفی جی دیوانہ ٹھہرے عقل و ہوش کی بات کہاں
لیکن وہ بھی تجھ سے بِچھڑ کر آج بہت پچھتائے ہیں
صغیر احمد صوفی
No comments:
Post a Comment