Friday, 2 April 2021

صحرا صحرا گھوم رہے ہیں کیا کیا سوانگ رچائے ہیں

صحرا صحرا گھوم رہے ہیں کیا کیا سوانگ رچائے ہیں

آج تمہارے شہر میں پیارے جوگی بن کر آئے ہیں

چاروں اور اندھیرا پا کر من کی جوت جگائے ہیں

جو عالم میں رُسوا کر دے ایسا روگ لگائے ہیں

غم کی باتیں کہتے کہتے ہونٹوں کو سی لیتے ہیں

کتنا بوجھ ہے بھاری دل پر جو برسوں سے اُٹھائے ہیں

ہم ہیں تنہا، رین اندھیری، طوفانوں کا جھونکا بھی

جلتے ہی بُجھ جاتے ہیں سب جتنے چراغ جلائے ہیں

صوفی جی دیوانہ ٹھہرے عقل و ہوش کی بات کہاں

لیکن وہ بھی تجھ سے بِچھڑ کر آج بہت پچھتائے ہیں


صغیر احمد صوفی

No comments:

Post a Comment