Thursday, 14 January 2016

آج کسی نے باتوں باتوں میں جب ان کا نام لیا

آج کسی نے باتوں باتوں میں جب ان کا نام لیا
دل نے جیسے ٹھوکر کھائی درد نے بڑھ کر تھام لیا
گھر سے دامن جھاڑ کے نکلے وحشت کا سامان نہ پوچھ
یعنی گردِ راہ سے ہم نے، رختِ سفر کا کام لیا
دیواروں کے سائے سائے عمر بِتائی دیوانے
مفت میں تن آسانئ غم کا، اپنے پر الزام لیا
راہِ طلب میں چلتے چلتے تھک کے جب ہم چُور ہوئے
زُلف کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھے، پل دو پل آرام لیا
ہونٹ جلیں یا سینہ سلگے، کوئی ترس کب کھاتا ہے
جام اسی کا جس نے تاباںؔ جرأت سے کچھ کام لیا 

غلام ربانی تاباں

No comments:

Post a Comment