میں ہوں بھکاری پریم نگر کا مجھ سے ملنے آئے کون
میرے لیے آوارہ بن کر طنز کے پتھر کھائے کون
عشق ہے کارِ شیشہ و آہن آپ کا کہنا ٹھیک سہی
دل تو ناصح مُورکھ ٹھہرا، مُورکھ کو سمجھائے کون
جرمِ محبت کر بھی چکے ہیں، عہدِ محبت لے بھی لیا
سناٹوں نے ہمدردی کی، تنہائی ہم رام بنی
کون جو میرے آنسو پونچھے، بیٹھ کے جی بہلائے کون
جھوٹ کی قیمت شہرت و عزت، عقل و خرد کی دنیا میں
سچی بات زبان سے کہہ کر دیوانہ کہلائے کون
کیفؔ بھٹکتے پھرتے ہیں جو جدت کی تاریکی میں
سوچتا ہوں ان بے بصروں کو حسنِ غزل دکھلائے کون
کیف عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment