مہندی کھرچ کے رنگ حنا کون لے گیا
تجھ سے چرا کے بوئے وفا کون لے گیا
پھیلی ہوئی ہے شہر میں عریانیت کی آنچ
تہذیب کے بدن سے قبا کون لے گیا
اے ہمنشیں! کہوں گا جو فرصت ملی مجھے
اک راز بن گئی ہے مِری خاموشی یہاں
ہونٹوں پہ مہر کیوں ہے، صدا کون لے گیا
ہاتھوں کی کیوں لکیروں میں اب ڈھونڈئیے اسے
محنت کا میری مجھ سے صِلہ کون لے گیا
اف، یہ سکوت اور کہاں بذلہ سنجیاں
جینے کی تجھ سے کیفؔ ادا کون لے گیا
کیف عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment